امام ابن قدامہ الحنبلی کی کرامت وہ پانی پر چلا کرتے تھے

امام شیخ الاسلام المجتہد ابن قدامہ الحنبلی کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ تھی کہ وہ پانی پر چلا کرتے تھے
امام ابن قدامہ حنبلی مذہب کے مجتہد فی مذہب امام محدث ، فقیہ تھے

امام ذھبی سیراعلام میں انکا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

112 – ابن قدامة عبد الله بن أحمد بن محمد المقدسي *
الشيخ، الإمام، القدوة، العلامة، المجتهد، شيخ الإسلام، موفق الدين، أبو محمد عبد الله بن أحمد بن محمد بن قدامة بن مقدام بن نصر المقدسي، الجماعيلي، ثم الدمشقي، الصالحي، الحنبلي، صاحب (المغني) .
وكان من بحور العلم، وأذكياء العالم.
قال ابن النجار: كان إمام الحنابلة بجامع دمشق، وكان ثقة، حجة، نبيلا، غزير الفضل، نزها، ورعا،
أقاما عند الشيخ عبد القادر خمسين ليلة، ومات، ثم أقاما عند ابن الجوزي، ثم انتقلا إلى رباط النعال، واشتغلا على ابن المني، ثم سافر في سنة سبع وستين ومعه الشيخ العماد، وأقاما سنة.

شیخ امام علامہ مجتہد شیخ الاسلام موقف الدین ابن قدامہ صاحب المغنی (کتاب)
یہ علم کا سمندر تھے اور متقی عالم تھے
ابن نجار نے کہا : یہ حنابلہ کے امام تھے یہ ثقہ حجت نیک اور ہر دل عزیز و عبادت گزار تھے
انہوں نے شیخ عبدالقادر الجیلانی (غوث پاک ) کی خدمت میں پچاس راتیں گزاریں
پھر (غوث پاک) وفات پا گئے اسکے بعد یہ شیخ ابن الجوزی کے ساتھ رہے پھر رباط النعال کی طرف منتقل ہو گئے

(نوٹ: جو شیخ غوث پاک کے ساتھ ۵۰ راتیں گزار لے انکی شان و کرامات یہ ہیں تو غوث پاک کی کرامات تو متواتر ہونی ہی تھیں )

انہوں نے بہت سی تصنیفات لکھی ہیں چند کے نام امام ذھبی نے سیر اعلام درج ذیل لکھےہیں :

صنف (المغني) عشر مجلدات،
و (الكافي) أربعة،
و (المقنع) مجلدا،
و (العمدة) مجيليدا،
و (القنعة) في الغريب مجيليد ،
و (الروضة) مجلد،
و (الرقة) مجلد،
و (التوابين) مجلد،
و (نسب قريش) مجيليد،
و (نسب الأنصار) مجلد،
و (مختصر الهداية) مجيليد،
و (القدر) جزء،
و (3) (مسألة العلو) جزء، والمتحابين) جزء،
و (الاعتقاد) جزء،
و (البرهان) جزء،
و (ذم التأويل) جزء،
و (فضائل الصحابة) مجيليد،
و (فضل العشر) جزء،
و (3) (عاشوراء) أجزاء،
و (3) (مشيخته) جزآن،
و (وصيته) جزء،
و (3) (مختصر العلل للخلال) مجلد،
وأشياء.
(سیر اعلام برقم:112)

امام ابن رجب حنبلی نے انکی کتاب طبقات حنابلہ کی ذیل لکھی تو وہ امام ابن قدامہ کی کرامات کا باب قائم کرتے ہیں
اور امام ذھبی کے تعلق سے فرماتے ہیں :

وقرأت بخط الحافظ الذهبي: سمعت رفيقنا أبا طاهر أَحْمَد الدريبي سمعت الشيخ إِبْرَاهِيم بْن أَحْمَد بْن حاتم – وزرت مَعَهُ قبر الشيخ الموفق – فَقَالَ: سمعت الفقيه مُحَمَّد اليونيني شيخنا يَقُول: رأيت الشيخ الموفق يمشي عَلَى الماء.

میں نے حافظ ذہبی علیہ الرحمہ کا خط(ہاتھ کی لکھائی) پڑھا میں نے اپنے دوست ابو طاہر احمد الدریبی کو سنامیں نے شیخ ابراہیم بن احمد بن حاتم کو سنا
میں نے ان کے ساتھ شیخ موفق کی قبر کی زیارت کی
تو انہوں نے کہا میں نے فقیہ محمد یونینی کو سنا ہمارے شیخ فرماتے میں نے شیخ موفق کو پانی پر چلتے دیکھا۔
(ذيل طبقات الحنابلة ، ابن رجب)

امام ذھبی نے یہ کرامت اپنے جس شیخ سے بیان کی تھی انکا نام
ابو طاہر الدیرنی ہے یہ حنبلی ہیں انکا ذکر امام ذھبی نے اپنے شیوخ میں کرتے ہوئے فرمایا:

أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْغَنِيِّ، الْمُحَدِّثُ الْفَقِيهُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو طَاهِرٍ الدِّرِينِيُّ الْبَعْلِيُّ الْحَنْبَلِيُّ.
وُلِدَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ وَسِتِّ مِائَةٍ.
وَسَمِعَ مَعَنَا مِنَ التَّاجِ , وَبِنْتِ كِنْدِيٍّ , وَالْيُونِينِيُّ، ثُمَّ طَلَبَ وَكَتَبَ وَتَنَبَّهَ وَجَلَسَ مُؤَدِّبًا، كَتَبْتُ عَنْهُ.
تُوُفِّيَ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَسَبْعِ مِائَةٍ.

ابو طاھر الدینی یہ محدث اور فقیہ تھے میں نے ان سے لکھا ہے
(المعجم المختص بالمحدثين الذھبی)

امام ذھبی کے شیخ الشیخ ابراھیم بن احمد بن حاتم ہیں جو اس واقعہ کو اپنے شیخ سے بیان کرتے ہیں:
امام ذھبی انکا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتےہیں :
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْفَقِيهُ الْقُدْوَةُ أَبُو إِسْحَاقَ الْبَعْلَبَكِّيُّ إِمَامُ مَسْجِدٍ بِطَاعِنٍ
وُلِدَ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلاثِينَ وَسِتِّ مِائَةٍ، وَصَحِبَ الشَّيْخَ الْفَقِيهَ، وَسَمِعَ مِنْ خَطِيبِ مَرْدَا، وَسُلَيْمَانَ الأَسْعَرْدِيِّ، وَالْفَقِيهِ مُحَمَّدٍ، وَأَجَازَ لَهُ ابْنُ رُوزْبَةَ، وَابْنُ بَهْرُوزٍ، وَالْقَاضِي نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَطَائِفَةٌ، وَكَانَ يُذْكَرُ عَنْهُ كَرَامَاتٌ، وَلَهُ حَظٌّ مِنْ تَأَلُّهٍ وَصَلاةٍ وَصِيَامٍ، وَكَانَ قَانِعًا مُتَعَفِّفًا أُصِيبَ بِبَصَرِهِ فِي آخِرِ عُمُرِهِ وَاللَّهُ يُعَوِّضُهُ بِالْجَنَّةِ.
مَاتَ فِي صَفَرٍ سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وَسَبْعِ مِائَةٍ.

الشیخ الفقیہ ابراھیم بن احمد بن حاتم یہ بہت سی کرامات کا ذکر کرتے تھے
انکو تکلیف ہوتی تھی نماز و روزے رکھنے کی وجہ سے انکی نظر بھی آخری عمر میں ختم ہو گئی تھی اللہ انکو جنت میں جگہ دے
(معجم الشيوخ الكبير للذهبي، الذھبی)

امام الفقيه محمد اليونيني
انکا ترجمہ امام ابن رجب نے امام ذھبی کے حوالے سےلکھا ہے :
قطب الدين موسى ابن الشيخ الفقيه أبي عبد الله محمد بن أبي الحسين اليونيني ببعلبك: ودفن عند أخيه بباب سطحا. وكان مولده في ثامن صفر سنة أربعين وستمائة بدمشق.
وسمع من أبيه، وبدمشق من ابن عبد الدايم، وعبد العزيز شيخ شيوخ حماة، وبمصر من الرشيد العطار، وإسماعيل بن صارم، وجماعة. وأجاز له ابن رواج، والتشتبري.
قال الذهبي: كان عالما فاضلا، مليح المحاضرة، كريم النفس، معظما جليلا. حدثنا بدمشق وبعلبك، وجمع تاريخا حسنا، ذيل به على ” مرآة الزمان ” واختصر ” المرآة “.
قال: وانتفعت بتاريخه، ونقلت منه فوائد جمة. وقد حسنت في آخر عمره حالته، وأكثر من العزلة والعبادة وكان مقتصدا في لباسه وزيه، صدوقا في نفسه، مليح الشيبة، كثير الهيبة، وافر الحرمة. رحمه الله تعالى.
قطب الدین ابی شیخ الفقیہ ابی عبداللہ محمد الیونینی
امام ذھبی فرماتے ہیں یہ عالم فاضل اچھے طبیعت والے عظیم شخصیت کے مالک تھے
اپنی زندگی کے آخری دور میں انہوں نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا اور عبادات میں مشغول ہو گئے اللہ ان پر رحمت کرے اور وہ اپنی ذات کے اعتبار سے سچے تھے
(ذیل طبقات حنابلہ)

امام ذھبی اور محدثین صوفیہ اور علماء کی کرامات کو فخر سے بیان کیا کرتے تھے اور صوفیہ و محدثین کے فضائل میں انکی کرامات جو اہل علم کے نزدیک معروف ہوں انکو بیان کرنا چاہیے تاکہ اللہ والے لوگوں کے لیے محبت بڑھے
تاکہ علم باطنی اور اللہ والوں کی قدر اور مرتبہ کی پہچان ہو

تحریر : دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s