زبیر زئی کی اصحاب الحدیث امام ابی یوسف کی گستاخی

دجال العصر زبیر چرسی زئی کی اصحاب الحدیث میں سے ثبت امام ابی یوسف کی گستاخی!!!!

اب دیکھتے ہیں کتنے وہابڑوں کو اصحاب الحدیث کی گستاخی پر غیرت جاگتی ہے ؎

ایک روایت کے رد میں انکا دجال العصر زبیر چرسی زئی کہتا ہے

کہ اسکی سند ضعیف ہے

اسد بن عمرو پر جروحات ہے محدثین کی

نوٹ : اسد بن عمرو ثقہ حنفی محدثین میں سے تھے اس پر اسکی چھترول بعد میں ہوگی

پھرآگے زبیر چرسی زئی بکتا ہے کہ ـ

ابو یوسف جمہور کے نزدیک ضعیف ہے
(اس کذب بیانی پر اسکی چھترول نیچے اسکین کی شکل میں موجود ہے جس پر پہلے ہی اسکے کاپی پیسٹر ابو حمزہ دجالی کی لتریشن ہو چکی)

پھر آگے ابو حنیفہ سے ایک روایت نقل کرتا ہے آدھی ادھوری جس میں ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ

ابی یوسف ہم سے وہ باتیں منسوب کر کے لکھ دیتا ہے جو ہم نے نہیں کہی ہوتی
(اسکا تحقیقی جواب آخر میں دیا جائے گا )

اب اس ادھورے قول سے زبیر چرسی زئی نے کوشش کی ہے ابی یوسف کو کذاب ثابت کر کے انکے گھر سے

اور فقہ حنفی کی بنیاد ہی گرا دی جائے (واہ انی دے آ)

پھر خود جارح بن کر اپنے غلیظ منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے لکھتا ہے کہ

یہ دیوبندی بھی قاضی ابی یوسف کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے اپنی طرف سے لفظ لکھ دیا

یعنی اس کھوتے زئی کے مطابق جس طرح قاضی ابی یوسف کذاب و اور اپنی طرف سے تحریف کرا تھا ویسے ہی دیوبندی نے کی

یہ تو ہو گیا ثبوت ان فیسبکی دگڑدلوں کے لیے جنکو دو دن سے چل تھی اصحاب الحدیث پر صرف دو پھکیاں دکھائی اور وہابڑوں کی موت آنے لگ گئی

زبی زئی نے خود کلام کیا ابو یوسف پر کہ دیوبندی ابو یوسف کے نقش قدم پر چل کر تحریف کی

اب زبیر چرسی زئی کی چھترول پیش خدمت ہے محدثین سے :

پہلی توثیق ابن حبان سے جنہوں نے ابو حنیفہ پر اندھی دھند جروحات اور الزام تراشیاں کی ہیں

باوجود اسکے ابی یوسف جنکی ثقاہت پر انکو بھی توثیق لکھنی پڑی

1.ابن حبان لکھتے ہیں :

– أَبُو يُوسُف يَعْقُوب بْن إِبْرَاهِيم بْن حبيب بْن سعد بْن حبتة من أهل الْكُوفَة يروي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ روى عَنْهُ بشر بْن الْوَلِيد وَأهل الْعرَاق وَكَانَ شَيخا متقنا

ابو یوسف یہ اہل کوفہ کے تھے یہ یحییٰ بن سعید الانصاری سے روایت کرتے تھے ان سے بشر بن ولید اور اہل عراق کے لوگ
یہ شیخ تھے اور متقن (یعنی ثبت) تھے
(الثقات ابن حبان)

2.امام ابن عدی :

ابی یوسف وھو ثقہ لا باس بہ

ابی یوسف ثقہ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں
(الکامل ابن عدی)

3.امام ابن معین (متشدد ناقد)

امام ابن معین کہتے ہیں اصحاب الرائے میں ابی یوسف سے ثبت ثقہ کوئی نہیں ہے
(الکامل )
(لیکن زبیر چرسی زئی کے بقول جمہور کے ابی یوسف ضعیف تھے)

امام ابن معین کہتے ہیں میں نے ابی یوسف سے حدیث لکھی بھی ہے اور ان سے روایت بھی کرتا ہوں

دوسری جگہ فرماتے ہیں

ابی یوسف اصحاب الحدیث کی طرف مائل تھے اور میں نے ان سے لکھا بھی ہے
اور روایت بھی کیا

4.امام نسائی (متشدد ناقدم)

ابی یوسف ثقہ ہیں

5.امام بیھقی

ابی یوسف ثقہ ہیں

6.امام احمد بن حنبل
7.امام علی بن مدینی (متشدد)
اور امام ابن معین کا اتفاق تھا

کہ ابی یوسف ثقہ ہے

8.امام عمر بن بکیر

وہ کہتے ہیں میں کسی اہل رائے سے روایت نہیں کرتا سوائے ابی یوسف کے کیونکہ وہ صاحب سنت ہیں

9.امام حاکم
نے مستدرک میں روایت لی ہے اور امام ذھبی سے سکوت کیا

10. امام ذھبی

امام ذھبی نے امام بخاری ، عقیلی اور ابن افلاس کی جرح ناقل کر کے انکو ردی کی ٹوکری مٰیں پھینکتے ہوئے

جو کلام کیا ہے وہ یہ ہے :

ابی یوسف مجتہد تھے علم کے اس بلند مقام پر تھے جس سے آگے کوئی مقام نہیں

اسکے اسکین نیچے

اب آتے ہیں اس روایت کی طرف جس کا ذکر زبیر چرسی زئی نے کر کہ ابی یوسف کو امام اعظم سے کذاب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

اور حوالہ دیا ہے امام ابن ابی حاتم کی کتاب الجرح والتعدیل کا
جسکی عبارت یہ ہے

نا عبد الرحمن أنا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب إلي قال سمعت أبا نعيم الفضل بن دكين قال سمعت ابا حنيفة يقول لابي يوسف: انكم تكتبون في كتابنا ما لا نقوله.

امام ابی نعیم کہتے ہیں میں نے ابی حنیفہ سے سنا وہ ابو یوسف کو کہا کہ تم وہ کچھ لکھ دیتے ہو جو میں نے نہٰیں کہا ہوتا

(الجرح والتعدیل)

اب امام نعیم فضل بن دکین نے اس روایت کو امام زفر سے تفصیلا بھی بیان کیا ہے
جسکو امام یحییٰ بن معین نے بیان کیا ہے

2461 – قال أبو نعيم وسمعت زفر يقول كنا نختلف إلى أبي حنيفة ومعنا أبو يوسف ومحمد بن الحسن فكنا نكتب عنه قال زفر فقال يوما أبو حنيفة لأبي يوسف ويحك يا يعقوب لا تكتب كل ما تسمع مني فإني قد أرى الرأي اليوم وأتركه غدا وأرى الرأي غدا وأتركه بعد غد

امام ابن معین فرماتے ہیں کہ ابو نعیم نے کہا کہ میں نے سنا زفر سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابی حنیفہ کی طرف گیا ابو یوسف و محمد بن حسن ان سے لکھ رہے تھے

امام زفر نے کہا ایک روز
ابو حنیفہ نے کہا ہاے اے یعقوب (ابی یوسف) ہر بات جو تم مجھ سے سنتے ہو اسکو (ہر کہی ہوئی بات) لکھنے مت بیٹھ جایا کرو کیونکہ (کسی مسلے) میں آج ایک رائے دیتا ہوں تو کل ایک اور رائے رکھتا ہوں (مضبوط دلیل پر مطلع ہونے پر)
اتو پرسوں (رجوع کرتے ہوئے نئی دلیل پر مطلع ہونے پر) اسکو چھوڑ دیتا ہوں

اس واقعہ کو مکمل تور پڑھنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک مجلس کا واقعہ تھا

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امام اعظم اپنے شاگردوں کو اپنی اجازت کے ساتھ تب لکھواتے جب کسی مسلے پر حتمی طور پر ایک بار فیصلہ کر لیتے

یہی وجہ ہے کہ فقہ حںفی میں امام اعظم کے مختلف اقوال نہیں ملتے دوسری فقہ کی طرح

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امام اعظم قیاس اور اجتیہاد پر ڈٹے نہیں رہتے تھے بلکہ دلائل و احادیث پر مطلع ہونے کے بعد وہ اپنے موقف سے رجوع بھی کرتے تھے

یہ تو بہت بڑی تعدیل تھی اور اعظمت کی نشانی تھی

لیکن زبیر چرسی زئی کو دور کی سوجھی اس نے ابی یوسف پر کذاب کی جرح کر دی

اپنین جاہل اجھل عوام کو پاگل بنانے کے لیے زبیر چرسی زئی نے ایک ثقہ ثبت امام کیونکہ وہ حنفی تھے کیسے دجل اور فریب کاری کی

قبر میں ضرور بدلہ مل رہا ہوگا ایسی خیانتوں کا

Written by Asad alTahawi from Pakistan

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s