امام وکیع اور امام یحییٰ امام ابو حنیفہ کے فتوے پر عمل کرتے تھے

امام یحییٰ بن معین کا بیان کہ امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن سعید القطان امام ابو حنیفہ کے فتوے پر عمل کرتے تھے

امام خطیب بغدادی اپنی سند سے بیان کرتے ہیں:

أجاز لنا إبراهيم ابن مخلد، قال: أخبرنا مكرم بن أحمد القاضي، ح

ثم قال: أخبرنا الصيمري، قراءة قال: أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ، قال: حدثنا مكرم،

قال: أخبرنا علي بن الحسين بن حبان، عن أبيه، قال: سمعت يحيى بن معين، قال: ما رأيت أفضل من وكيع بن الجراح، قيل له: ولا ابن المبارك؟ قال: قد كان لابن المبارك فضل، ولكن ما رأيت أفضل من وكيع، كان يستقبل القبلة، ويحفظ حديثه، ويقوم الليل، ويسرد الصوم، ويفتي بقول أبي حنيفة، وكان قد سمع منه شيئا كثيرا، قال يحيى بن معين: وكان يحيى بن سعيد القطان يفتي بقوله أيضا

امام خطیب پہلے اپنے شیخ ابراہیم بن مخلد سے اور وہ مکرم بن احمد بن قاضی سے

پھر امام خطیب امام صیمری کی سند بھی ساتھ لکھتے ہیں اور دونوں اسناد جب مکر بن احمد القاضی پر مل جاتی ہے

تووہ علی بن حسین بن حبان سے اور وہ اپنے والد (حسین بن حبان) سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا امام یحییٰ بن معینؒ سے

انہوں نے کہا میں نے وکع بن جراح سے افضل کوئی نہٰیں دیکھا ہے
کہا گیا کہ ابن مبارک سے بھی نہیں ؟
تو کہا (ابن معین ) نے کہ ابن مبارک بھی اہل فضل ہیں لیکن میں نے امام وکیع بن جرح سے افضل نہیں دیکھا

جو راتوں کو قیام کرتے مستقل قبلہ جانب ہو کر
احادیث کو یاد کرتے
روزے بھی رکھتے تھے

اور امام اعظم ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے ،اور میں نے ان سے بہت زیادہ سنا ہے
اور پھر امام ابن معین نے فرمایا کہ امام یحییٰ بن سعید القطان بھی ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے

امام امام خطیب کی سند کے رجال کی تحقیق پیش کرتے ہیں :

1، پہلا راوی : ابراہیم بن مخلد (یہ امام خطیب کے شیخ ہیں )

امام ذھبی انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

276 – إبراهيم بن مخلد بن جعفر بن مخلد، أبو إسحاق الباقرحي. [المتوفى: 409 هـ]
سمع الحسين بن يحيى بن عياش، وحمزة بن القاسم الهاشمي، وأبا عبد الله الحكيمي، وعلي بن محمد الواعظ، وخلقا من طبقتهم.
قال الخطيب: كتبنا عنه، وكان صحيح الكتاب، جيد الضبط، من أهل المعرفة بالأدب، جريري المذهب. شهد عند القضاة، وفيه تشيع.
توفي في ذي الحجة سنة عشر.
وقال ابن خيرون: توفي في ذي الحجة سنة تسع.
قلت: عاش خمسا وثمانين سنة.

ابراہم بن مخلد امام خطیب کہتے ہیں میں نے ان سے لکھا ہے یہ صحیح کتاب تھے اور انکا ضبط جید تھا
(تاریخ الاسلام )

2۔ دوسرا راوی : مکرم بن احمد القاضی

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

198 – مكرم بن أحمد بن مكرم، أبو بكر البغدادي القاضي البزاز. [المتوفى: 345 هـ]
سمع: يحيى بن أبي طالب، ومحمد بن الحسين الحنيني، ومحمد بن عيسى بن حيان المدائني، وعبد الكريم الديرعاقولي، وتمتاما، وغيرهم.
وعنه: الحاكم أبو عبد الله، وأبو الحسن بن رزقويه، وابن الفضل القطان، وأبو علي بن شاذان.
وتوفي في جمادى الأولى.
وثقه الخطيب. وحديثه بعلو عند نصر الله القزاز، وطبقته.

مکرم بن احمد البزازقاضی انکو خطیب بغدادی نے ثقہ قرار دیا ہے
(تاریخ الاسلام )

3۔ تیسرا راوی : علی بن حسین بن حبان

امام ذھبیؒ انکے بارے فرماتے ہیں :

235 – علي بن الحسين بن حبان بن عمار، أبو الحسن المروزي، ثم البغدادي. [المتوفى: 305 هـ]
سمع: محمد بن الصباح الجرجرائي، ومحمود بن غيلان، ومحمد بن بكار.
وعنه: مكرم القاضي، ومحمد اليقطيني، وعلي بن عمر الحربي.
وكان ثقة.

علی بن حسین بن حبان ابو الحسن المروزی یہ ثقہ ہے
(تاریخ الاسلام)

4۔ چوتھا راوی : حسین بن حبان

انکے بارے امام خطیب فرماتے ہیں :

4040- الحسين بن حبان بن عمار بن الحكم بن عمار بن واقد أبو علي صاحب يحيى بن معين كان من أهل الفضل، والتقدم في العلم، وله عن يحيى كتاب غزير الفائدة.
روى ابنه علي بن الحسين ذلك الكتاب عن أبيه وجادة.
والحسين بن حبان قديم الموت توفي فيما ذكر ابنه سنة اثنتين وثلاثين ومائتين بالعسيلة، وهو ذاهب إلى الحج، وذلك قبل وفاة يحيى بن معين بسنة.

حسین بن حبان یہ صاحب امام یحییٰ بن معین تھے ، یہ فضل والے تھے اور علم میں مقدم (پختہ)تھے ، انکے پاس امام یحییٰ بن معین (سے مروی)کتاب تھی جو کہ بہت فائدہ مندہے اور اس سے اسکا بیٹا علی اسی کتاب سے اجازت سے بیان کرتاتھا
(تاریخ بغداد)

تو کچھ غیر مقلدین اس راوی پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسکی توثیق ثابت نہیں
تو عرض ہے

اول،
حسین بن حبان کے بارے امام خطیب نے جب کہا کہ اہل فضل اورعلم میں مقدم تھے تو یہ مقدم پختہ ضبط والے کو ہی کہتے ہیں نیز یہ محدثین کے اقوال بیان کرتے تھے تو اسی علم میں انکو مقدم قرار دیا امام خطیب نے کیونکہ راوی کا معروف علم ہی رجال پر اققوال بیان کرنا ہے

دوم۔
حسین بن حبان کے پاس کتاب تھی جس میں انہوں نے امام ابن معین سے اقوالات درج کیے تھے تو جو کتاب سے بیان کرے اسکے لیے ضبط کی توثیق کی ضرورت ہی نہیں ہوتی التہ عدالت ثابت ہونی چاہیے
اور عدالت توثابت ہے جیسا کہ امام خطیب کا بیان گزرا
نیز امام خطیب نے کتاب کی بھی تعریف کر دی کہ انکی کتاب بہت فائدہ مند تھی

نیز ایک قول امام ابن عبدالبر نے بھی بیان کیا ہے اپنی سند صحیح سے

نَا حَكَمُ بْنُ مُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ نَا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ بِمَكَّةَ قَالَ نَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الأَعْرَابِيِّ قَالَ نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ وَكِيعٍ وَكَانَ يُفْتى برأى ابى حنيفَة

امام الدوری فرماتے ہیں کہ امام یحیی بن معین سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے افضل کیس کو نہیں دیکھا

وہ ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے
(الانتقاٗء ابن عبدالبر )

رجال کا مختصر تعارف: تفصٓیل کے لیے میریوال پرمدلل تحقیق موجود ہے
ہم یہیاں مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں

(امام ابن عبدالبر کے پاس حکم بن منذر کے طریق سے ام الصیدلانی کی کتاب تھی اور انکی عدالت کی توثیق امام ابن بشکوال نے کر رکھی ہے انکو اہل معرفت والا کہہ کر

نیز یوسف بن احمد کی روایت کی تصحیح امام ابن عبدالبر نے الاستذکار میں کر رکھی ہے یہ بھی ثقہ راوی ہیں ،

ابو سعید بن العرابی یہ بھی ثقہ راوی ہیں جیسا کہ امام ذھبی نے انکو ثقہ ثبت قرار دیا ہے

307 – أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بن درهم العنزي الإمام أبو سعيد ابن الأعرابي البصري. [المتوفى: 340 هـ]
نزيل مكة.
سمع: الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني، وسعدان بن نصر وعبد الله بن أيوب المخرمي، ومحمد بن عبد الملك الدقيقي، وأبا جعفر ابن المنادي.
وجمع وصنف وطال عمره.
قلت: وصنف في شرف الفقر، وفي التصوف، وكان ثقة ثبتا.

امام ذھبی کہتے ہیں میں کہتا ہوں اہوں نے فقر اور تصوف پر کتب لکھی ہیں اور یہ ثقہ و ثبت تھے )

(تاریخ الاسلام )

اور عباس الدوری امام بن معین کے مشہور تلامذہ ہیں

اس تحقیق سے معلوم ہوا امما وکیع اور امام یحییٰ بن سعید القطان امام اعظم کے اجتیہاد پر تھے

نوٹ: امام یحیی بن سعید القطان پر تفصیلہی پوسٹ بنا چکا ہوں کہ وہ حنفی تھے

تحقیق: دعاگ گو اسد الطحاوی الحنفی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s