امام ذھبی اور اصحاب الحدیث کا اہل رائے پر تعصب

ہم غیر مقلدین کو سمجھا سمجھا تھک گئے کہ ثقہ ، ثبت ، یا صدوق درجے کے بھی اہل رائے پر نقد کرنے والے کے نقد پرکھا جائے گا کوئی پختتہ دلیل ہوتو قبول ہوگی ورنہ رد ہوجائے گی

کیونکہ اصحاب الحدیث کا اہل رائے پر تعصب مشہور و معروف ہے

اب اسکی ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ ایک فقیہ صدوق محدث پر امام ذھبی نے فیہ نظر جیسی جرح کو ایک ٹکے کی اہمیت نہیں دی جب معلوم ہو کہ راوی اہل رائے میں سے ہے اور جارح اصحاب الحدیث میں سے متعصب ہے

183 – محمد بن المغيرة بن سنان الضبي الهمذاني *
السكري، الحنفي، الفقيه.
ويلقب بحمدان، شيخ المحدثين بهمذان وأهل الرأي.
حدث عن: القاسم بن الحكم العرني، وهشام بن عبيد الله الرازي، وعبيد الله بن موسى، ومكي بن إبراهيم، وقبيصة، وطائفة.

وعنه: أبو الحسن بن سلمة القطان، وعبد السلام بن محمد، وأبو جعفر أحمد بن عبيد، وحامد الرفاء، وآخرون.
قال صالح بن أحمد: صدوق.
وقال السليماني: فيه نظر.
قلت: يشير إلى أنه صاحب رأي (1) .
توفي سنة أربع وثمانين ومائتين.
————————–

(1) جرح الراوي الثقة العدل الضابط بأنه من أهل الرأي مردود على قائله، لا يلتفت إليه، ولا يعبأ به، لأنه صادر عن تعصب وهوى.
فأبو حنيفة ومالك وربيعة والشافعي وأحمد، وكثير غيرهم يدخلون في عداد أهل الرأي، لان كل واحد منهم له تأويل في آية، أو مذهب في سنة رد من أجل ذلك المذهب سنة أخرى بتأويل سائغ، أو ادعاء نسخ، أو بوجه من الوجوه المعروفة عند أهل العلم.
(انظر: جامع بيان العلم وفضله: 321 وما بعدها، لابن عبد البر) .

امام ذھبی ابن سنان الحنفیؒ کا تعارف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

محمد بن مغیرہ ابن سنان یہ ھمدانی السکری ہیں یہ حنفی اور فقیہ ہیں

انکا لقب حمدان کی نسبت سے ہے

یہ شیخ ہیں محدثین اور اہل رائے کے ہمدان میں

پھر انکے شیوخ اور تلامذہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

امام صالح بن احمد کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے
اور
سلیمان (ابو فضل) کہتے ہیں کہ : اس میں نظر ہے

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبیؒ کہتے ہیں

میں (الذھبیؒ) کہتا ہوں یہ (جرح ) اس طرف اشارہ ہے کہ (ابن سنان) اہل رائے میں سے تھے

امام ذھبی کا کلام ختم ہوا۔۔۔۔۔۔

اب صاحب علم لوگ پڑھ سکتے ہیں کہ امام ذھبی جیسا ناقد بھی ایسے ناقدین پر یہ طنز کیے بنا نہ رہہ سکے کہ

ایک ھمدان کا بہت بڑا فقیہ اور محدث ہے
اور اسکی توثیق کے بعد

سلیمان کی جرح کو ہی انہوں نے اس بات کا ثبوت بنایا کہ

یہ بندہ جو فیہ نظر جیسی جرح کر رہا ہے تو یہی اسی بات کی دلیل ہے کہ جس بیچارے پر جرح کی جا رہی ہے وہ اہل رائے سے ہے یقینن

امام ذھبی کے کلام کی شرح کرتے ہوئے

علامہ شیخ شعیب الارنووط محدث لکھتے ہیں :

ثہق ، ثبت اور عادل راوی پر جارح جرح کرے تو اسکی طرف نہ ہی توجہ کی جائے ، نہ ہی اس کلام کی پرواہ کی جائے کیونکہ جارح سے یہ کلام تعصب کی وجہ سے صادر ہوتا ہے
پھر انہوں نے اس موضوع پر تفصیل کے لیے امام ابن عبدالبر کی کتاب جامع بیان کا حوالہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نتیجہ!!!

جب ایک فقیہ صدوق محدث پر امام ذھبی نے جارح کے کلام کو کوئی اہمیت نہ دی

اور غیر مقلدین کے غالی لونڈے بیچاری ایسی قوم ہے

جو اعظیم تابعی مجتہد مطلق حافظ و عارف بالفقہ امام اعظم ابو حنیفہ پر

امام بخاری کا فیہ کلام اور امام مسلم کا مضطرب الحدیث لے لے کر پھر رہے ہیں کہ بھائی اسکو مان لو پلیز۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s