اصحاب الحدیث کی امام شعبی پر زبان درازی

مجتہد فقیہ محدث اور تابیع کبیر امام شعبی کا مجالس اصحاب الحدیث سے اجتناب اور اصحاب الحدیث کا امام شعبی پر زبان درازی

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البرلوی

ہم نے سابقہ تحریرات میں یہ ثابت کیا کہ اصحاب الحدیث میں ایک ایسا گروح تھا جو قیاس اجتیہاد کا مطلق منکر تھا
جن میں شروع کے جید محدثین بھی شامل تھے یہ وہ بنیادی اختلاف شروع سے چلا آرہا تھا
اور انہی محدثین نے امام ابو حنیفہ پر طعن کیا اور پھر اس طعن کو خاص احتمام سے جمع بھی کیا گیا
لیکن یہ تعصب فقط امام اعظم پر ہی نہیں تھا بلکہ ان اصحاب الحدیث نے امام شعبی جیسی شخصیت کو بھی نہ چھوڑا

سب سے پہلے امام شعبی کا تعارف پیش کرتے ہیں جوامام ابو حنیفہ کے شیخ تھے

113 – الشعبي عامر بن شراحيل بن عبد بن ذي كبار
وذو كبار: قيل من أقيال اليمن، الإمام، علامة العصر، أبو عمرو الهمداني، ثم الشعبي.
مولده: في إمرة عمر بن الخطاب، لست سنين خلت منها، فهذه رواية.
وعن أحمد بن يونس: ولد الشعبي سنة ثمان وعشرين
وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان.
قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه.
وسمع من: عدة من كبراء الصحابة.
وحدث عن: سعد بن أبي وقاص، وسعيد بن زيد، وأبي موسى الأشعري، وعدي بن حاتم، وأسامة بن زيد، وأبي مسعود البدري، وأبي هريرة، وأبي سعد، وعائشة، وجابر بن سمرة، وابن عمر، وعمران بن حصين، والمغيرة بن شعبة، وعبد الله بن عمرو، وجرير بن عبد الله، وابن عباس، وكعب بن عجرة، وعبد الرحمن بن سمرة، وسمرة بن جندب، والنعمان بن بشير، والبراء بن عازب، وزيد بن أرقم، وبريدة بن الحصيب، والحسن بن علي، وحبشي بن جنادة، والأشعث بن قيس الكندي، ووهب بن خنبش الطائي، وعروة بن مضرس، وجابر بن عبد الله، وعمرو بن حريث، وأبي سريحة الغفاري، وميمونة، وأم سلمة، وأسماء بنت عميس، وفاطمة بنت قيس، وأم هانئ، وأبي جحيفة السوائي، وعبد الله بن أبي أوفى، وعبد الله بن يزيد الأنصاري، وعبد الرحمن بن أبزى، وعبد الله بن الزبير، والمقدام بن معد يكرب، وعامر بن شهر، وعروة بن الجعد البارقي، وعوف بن مالك الأشجعي، وعبد الله بن مطيع بن الأسود العدوي، وأنس بن مالك، ومحمد بن صيفي،
وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة

امام شعبیٰ یہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ۲۱ ھ کو پیدا ہوئے
اسکے بعد امام ذھبی کہتے ہیں : میں کہتا ہون انہوں نے حضرت علی کو پایا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے
اور کئی عدد کبیر صحابہ سے سماع کیا ہے پھر اسکے بعد امام ذھبی کثیر صحابہ جو جلیل القدر اور مشہور و معروف صحابہ تھے اسکے بعد لھکتے ہیں وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة کہ یہ ۵۰ صحابہ کرام ہیں
آگے امام ذھبی ابن عساکر کے حوالے سے سند کے ساتھ نقل کرتے ہین :

روى: عقيل بن يحيى، حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن منصور الغداني، عن الشعبي، قال:
أدركت خمس مائة صحابي، أو أكثر، يقولون: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي

امام شعبیٰ فرماتے ہیں : کہ میں نے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی۔

اسکے بعد امام ذھبی الفسوی کے حوالے سے صحیح سند سے لکھتے ہیں :
الفسوي في (تاريخه (4)) : حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شبرمة، سمعت الشعبي يقول:
ما سمعت منذ عشرين سنة رجلا يحدث بحديث إلا أنا أعلم به منه، ولقد نسيت من العلم ما لو حفظه رجل لكان به عالما.

امام حمیدی سفیان سے اور وہ امام شعبی سے سنا ہے کہ : امام شعبی کہتے
کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں

پھر امام ابن عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں
قال ابن ابی لیلیٰ : كان إبراهيم صاحب قياس، والشعبي صاحب آثار
امام ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے کہ ابراہیم النخعی صاحب قیاس یعنی مجتہد تھے اور امام شعبیٰ صاحب آثار یعنی آثار صحابہ کے بڑے عالم ہیں

اور امام شعبیٰ کی وفات ۱۰۳ سے ۱۰۹ ھ کے درمیان وفات ہوئی
(سیر اعلام النبلاء)

امام ذھبی انکا ذکر تذکرہ حفاظ میں یوں کرتے ہیں :
76- 11/ 3ع- الشعبي علامة التابعين أبو عمرو عامر بن شراحيل الهمداني الكوفى من شعب همدان: مولده في أثناء خلافة عمر في ما قيل كان إماما حافظا فقيها متفننا ثبتا متقنا وكان يقول: ما كتبت سوداء في بيضاء وروى عن علي فيقال مرسل وعن عمران بن حصين وجرير بن عبد الله وأبي هريرة وابن عباس وعائشة وعبد الله بن عمر وعدى بن حاتم والمغيرة بن شعبة وفاطمة بنت قيس وخلق وعنه إسماعيل بن أبي خالد وأشعث بن سوار وداود بن أبي هند وزكريا بن أبي زائدة ومجالد بن سعيد والأعمش وأبو حنيفة وهو أكبر شيخ لأبي حنيفة وابن عون ويونس بن أبي إسحاق والسرى بن يحيى وخلق قال أحمد العجلي مرسل الشعبي صحيح لا يكاد يرسل الا صحيحا.

الشعبی تابعین میں علامہ تھے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ۲۱ھ کو پیدا ہوئے یہ امام حافظ فقیہ یعنی مجتہد متقن ثبت تھے انہوں نے حضرت علی ، عمران بن حصین، جریر بن عبداللہ ، ابی ھریرہ، ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عدی بن حاتم ، مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے
اور ان سے روایت کرنے والے امام ابی حنیفہ یہ اما م ابو حنیفہ کے بڑے کبیر شیخ تھے ، اور ابن عون ، یونس بن ابی اسحاق ، وغیرہ ہیں
اور امام عجلی کہتے ہیں شعبی کی مراسل صحیح کے علاوہ روایت نہ کرتے
(تذکرہ الحفظ امام ذھبی)

محدث کبیر امام ابی عبداللہ القاضی الصمیری المتوفیٰ (۴۳۶ھ)

اپنی مشہور تصنیف اخباری ابی حنیفہ واصحابہ میں امام اعظم ابی حنیفہؓ اور امام اعظم الشعبیؓ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں اپنی سند صحیح سے :

أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عمران بن موسى المرزباني قال ثنا محمد بن أحمد الكاتب قال ثنا الحسن بن محمد بن فهم قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا أبو يعلى خال يزيد بن هارون قال حدثني أبو حنيفة
قال كنت عند الشعبي فأتاه رجل فسبه فقال الشعبي
(هنيئا مريئا غير داء مخامر … لعزة من أعراضنا ما استحلت)

امام اعظم امام ابی حنیفہ امام اعظم امام الشعبی کے پاس تھے کہ یہاں تک کہ ایک آدمی آیا جس نے انکو (یعنی امام الشعبی) کو برا بھلا کہا
یہ سن کر امام الشعبی نےیہ شعر پڑھ دیا
ترجمہ :
( اسکو مبارک ہو اسکو ہضم ہو کیونکہ یہ ایسی بیماری نہیں جس سے پیٹ سوج جائے
ہماری عزتوں میں انکے لیے جائز ہے جسکو وہ اپنے لیے جائز کہتے ہیں)

یعنی امام شعبی نے کہا جو ہمارے لیے برا بھلااور طعن جائز سمجھتے ہیں ایسا طعن انکے اپنے لیے بھی جائز ہے انکی سوچ کے مطابق

معلوم ہوا امام شعبی جو 500. صحابہ کے شاگرد ہیں
کچھ لوگ ایسے بیمار حالت تھے وہ امام شعبی کو برا بھلا کہنے میں قصر نہ رکھی
اور جو بیمار لوگ امام اعظم ابو حنیفہ کو اپنی بیماری میں برا بھلا کہہ دیا
تو یہ کونسی بڑی بات ہے
غالی وہابیہ کے لمحہ فکر

اور یہ وہ کون لوگ تھے جو شعبی جیسی شخصیت کو اپنے کم علم کی بنیاد پر طعن کا نشانہ بناتے تھے اسکا ثبوت امام شعبی سے آگے بیان میں آرہا ہے

سند کی تحقیق:
(نوٹ: سند میں ابو یعلیٰ خال یزید بن ھارون ہے جو نسخے کی غلطی ہے اصل عبارت یوں ہے ابو یعلی اخو خالد بن یزید بن ھارون جسکی تفصیل سند کی تحقیق میں آگے آئے گی )

۱۔پہلا راوی : محمد بن عمران المعروف المرزبانی
امام خطیب انکی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
محمد بن عمران بن موسى بن عبيد، أبو عبيد الله الكاتب المعروف بالمرزباني [3] :
حدث عن أبي القاسم البغوي، وأبي حامد مُحَمَّد بْن هارون الحضرمي، وأحمد ابن سليمان الطوسي، وأبي بكر بن دريد، وأبي عبد الله نفطويه، وأبي بكر بن الأنباريّ، ومن في طبقتهم وبعدهم.
وَقَالَ لي الأزهري: كان أبو عبيد الله معتزليا، وصنف كتابا جمع فيه أخبار المعتزلة، ولم أسمع منه شيئا لكن أخذت لي إجازته بجميع حديثه،
وما كان ثقة.
وَقَالَ العتيقي:
وكان مذهبه التشيع والاعتزال، وكان ثقة في الحديث.
(تاريخ بغداد وذيوله)

۲۔سند کا دوسرا راوی : محمد بن احمر المعروف الکاتب
امام خطیب بغدادی اسکی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ثقہ ہے
اور البرقانی سے انکی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں ثقہ ہے لیکن مناکیر بیان کرتا ہے
امام خطیب انکا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہون میں اسکی احادیث کا اعتبار کیا جائے گی میں بہت ہی قلیل مناکیر دیکھی اسکی روایات میں
52- محمد بن أحمد بن إبراهيم بن قريش بن حازم بن صبيح بن صباح أبو عبد الله الكاتب يعرف بالحكيمي سمع زكريا بن يحيى بن أسد المروزي، ومحمد بن عبد النور المقرئ، ومحمد بن إسحاق الصاغاني، والعباس بن محمد الدوري، ومحمد بن عبيد الله بن المنادي، والحسن بن مكرم، وأحمد بن أبي خيثمة، وأبا قلابة الرقاشي، ومحمد بن الحسين الحبيني، وغيرهم من هذه الطبقة.
روى عنه: أبو الحسن الدارقطني، وعبيد الله بن عثمان بن يحيى الدقاق، وأبو عمر بن حيويه، ومحمد بن عمران المرزباني. سألت أبا بكر البرقاني، عن الحكيمي،
فقال: ثقة إلا أنه يروي مناكير.
قلت: وقد اعتبرت أنا حديثه فقلما رأيت فيه منكرا.
(تاريخ بغداد وذيوله)[

۳۔ سند کا تیسرا راوی : الحسین بن محمد بن فہم
امام خطیب انکے بارے فرماتے ہیں ؛ یہ اچھی مجلس والے تھے ، اور علوم میں پختہ تھے ، کثیر احادیث کو حفظ کرنے والے تھے ، یہ اخبار ، نسب، اشعار اور رجال کی معرفت رکھتے تھے ، یہ فصحیح تھے اور فقہ میں متواسط تھے
4143- الحسين بن محمد بن عبد الرحمن بن فهم بن محرز بن إبراهيم أبو علي سمع خلف بن هشام البزار، ويحيى بن معين، ومصعبا الزبيري، ومحمد بن سعد كاتب الواقدي، ومحمد بن سلام الجمحي، وأبا خيثمة زهير بن حرب، والحسين بن حماد سجادة، ومحرز بن عون، وسليمان بن أبي شيخ، وعبيد الله بن عمر القواريري.
روى عنه أحمد بن معروف الخشاب، وأحمد بن كامل القاضي، وإسماعيل بن علي الخطبي، وأبو علي الطوماري، وكان عسرا في الرواية متمنعا إلا لمن أكثر ملازمته.
وكان له جلساء من أهل العلم يذاكرهم، فكتب جماعة عنه على سبيل المذاكرة، وكان يسكن الجانب الشرقي ناحية الرصافة.
وكان حسن المجلس مفننا في العلوم، كثير الحفظ للحديث مسنده ومقطوعه، ولأصناف الأخبار والنسب والشعر، والمعرفة بالرجال، فصيحا، متوسطا في الفقه، يميل إلى مذهب العراقيين
(تاريخ بغداد)
امام حاکم انکے بارے فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ مامون ہیں
ليعلم المستفيد لهذا العلم أن الحسين بن فهم بن عبد الرحمن ثقة مأمون حافظ
(مستدرک الحاکم ، جلد ۳، ص ۱۳۷)

۴۔ چوتھا راوی : علی بن الجعد یہ امام بخاری و ابی داود کے شیخ اور امام شعبہ ، اور دیگر تابعین کے شاگرد ہیں اور صحیح کے راوی ہیں :
152 – علي بن الجعد بن عبيد البغدادي * (خ، د)
الإمام، الحافظ، الحجة، مسند بغداد، أبو الحسن البغدادي، الجوهري، مولى بني هاشم.
ولد: سنة أربع وثلاثين ومائة (1) .
وسمع من: شعبة، وابن أبي ذئب، وحريز بن عثمان – أحد صغار التابعين – وجرير بن حازم، وسفيان الثوري، والمسعودي، وفضيل بن مرزوق، والقاسم بن الفضل الحداني، وعبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، ومبارك بن فضالة، ويزيد بن إبراهيم التستري، ومعروف بن واصل، وهمام بن يحيى، وبحر بن كنيز السقاء، وجسر بن الحسن، والحسن بن صالح بن حي، والحمادين، والربيع بن صبيح، وسليمان بن المغيرة، وسلام بن مسكين، وشيبان النحوي، وصخر بن جويرية، وعاصم بن محمد العمري، وعبد الحميد بن بهرام، وعبد العزيز بن الماجشون، ومالك بن أنس، وعلي بن علي الرفاعي، وقيس بن الربيع، ومحمد بن راشد، ومحمد بن طلحة بن مصرف، ومحمد بن مطرف، وورقاء بن عمر، وأبي الأشهب العطاردي، وأبي عقيل يحيى بن المتوكل، وخلق سواهم.
حدث عنه: البخاري، وأبو داود، ويحيى بن معين، وخلف بن سالم، وأحمد بن حنبل شيئا يسيرا، وأحمد بن إبراهيم الدورقي،
(سیر اعلام النبلاء ، امام ذھبی )

۵: پانچواں راوی العلاء بن ھارون جو کہ امام یزید بن ھارون کے بھائی ہیں یہ ابن عون ، اور ان سے ضمرہ بن ریبعہ و حسان بن حسان وغیرہ روایت کرتے ہیں
امام ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں
1998 – العلاء بن هارون اخو يزيد بن هارون الواسطي كان يسكن الرملة روى عن ابن عون روى عنه ضمرة بن ربيعة وحسان بن حسان
سمعت أبى وابا زرعة يقولان ذلك، ثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عنه فقال ثقة.
(الجرح والتعديل)
اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں سند میں انکا نام کے ساتھ اخو کی بجائے خول لکھنے میں نسخے کی غلطی ہے
اور انکی کنیت ابویعلی تھی جیسا کہ امام ذھبی نے سیر اعلام النبلاء میں تصریح کی ہے
289- الْعَلاءُ بْنُ هَارُونَ، الْوَاسِطِيُّ.
أَخُو الإِمَامِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَدِيمُ الْمَوْتِ، وَلِيَ قَضَاءَ الأَنْبَارِ، وَسَكَنَ الرَّمْلَةَ مُدَّةً.
وَحَدَّثَ عَنِ: ابْنِ عَوْنٍ، وَحُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عُمَرَ.
وَعَنْهُ: ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَسَوَّارُ بْنُ عِمَارَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ.
كُنْيَتُهُ: أَبُو يَعْلَى.
ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَأَشَارَ إِلَى تَوْثِيقِهِ.
(تاریخ الاسلام ذھبی))

۶: سند کے چھٹے راوی خود امام اعظم ابی حنیفہ نعمان بن ثابت ہیں؂

امام ذھبی سیر اعلام میں امام شافعی کا ایک قول بیان کرتے ہیں :
قال الشافعی: العلم یدور علی ثلاثه: مالک ، واللیث، وابن عیینة
یعنی امام شافعی فرماتے ہیں کہ علم (بقول امام ابن عبدالبرعلم یعنی حدیث )
کا دارومدار تین اشخاص پر ہے امام مالک، امام ابن عیینہ (شاگرد ابو حنیفہ)
اور امام لیث
اس قول کو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں :
قلت : بل وعلی سبعة معھم ، وھم: الاوزاعی، والثوری، و معمر ، و ابو حنیفة، وشعبة، والحمادان
امام ذھبی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں انکے علاوہ سات اشخاص اور بھی ہیں یعنی امام اوزاعی ، امام سفیان الثوری ، امام معمر ، امام ابو حنیفہ ، امام شعبہ اور حمدان ہیں
یعنی امام ذھبی کی نظر میں پوری امت رسول میں حدیث کو محفوظ اور انکو بیان کرنے میں اور انکی حفاظت میں ۱۰ اشخاص ہیں جنہوں نے حدیث رسول کا دفاع کیا اور اہلسنت کے ستون ثابت ہوئے ان میں امام ذھبی نے جہاں نہ امام بخاری ، نہ امام احمد ، نہ امام مسلم کوئی بھی درج نہیں کیا یہاں تکہ کہ امام یحییٰ بن معین کا نام بھی درج نہیں کیا کیونکہ یہ لوگ بعد کے ہیں
اور جن لوگوں نے قدریوں ، معتزلیوں اور شیعوں کے عروج کے دور میں کتاب اللہ اور سنت رسول کا پرچم بلند کیا یہی اصلی ۱۰ اشخاص ہیں جو حدیث رسول کے دفاع کے لیے ستون ہیں
اور امام ذھبی نے یہ بات لکھ کر دو دوٹکے کےان متعصب وہابیہ کے منہ پر تھوک دیا جنکی اوقات ایک حدیث کی سند یاد کرنے نہیں وہ امام اعظم پر آج کے دور میں زبانی درازی کرتے ہیں

اب آتے ہیں امام شعبی سے ثبوت پیش کرتے ہیں :

امام ابن عساکر اپنی سند سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :

أخبرنا أبو طالب علي بن عبد الرحمن بن أبي عقيل أنا أبو الحسين علي بن الحسن بن الحسين أنا أبو محمد بن النحاس أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو رفاعة عبد الله بن محمد بن حبيب أنا عصمة بن سليمان نا عامر بن يساف
قال قال لي الشعبي: امضي بنا حتى نفر من أصحاب الحديث قال فمضينا حتى أتينا الجبانة قال فكوم كومة ثم اتكأ عليها فمر بنا شيخ من أهل الحيرة عبادي فقال له الشعبي يا عبادي ما صنعتك (2) قال رفاء قال عندنا دن مكسور ترفوه لنا قال إن هيئت لي سلوكا من رمل رفيت لك دنك قال فضحك الشعبي حتى استلقى ثم قال هذا أحب إلينا من مجالسة أصحاب الحديث
(سند حسن، تاریخ دمشق ابن عساکر)

امام عامر بن یساف کہتے ہیں کہ مجھے امام شعبی نے کہا کہ مجھے اپنے ساتھ لے جاو یہاں تک کہ ہم ۔۔۔۔اصحاب الحدیث۔۔۔۔ سے دور چلیں جائیں تو ہم چلے گئے
یہاں تک کہ ہم کسی صحرہ میں آگئے پھر انہوں نے مٹی کا ایک ڈھیر بنایا پھر اس پر تکیہ کیا
اہل خیرہ کا شیخ ہمارے پاس سے گزرہ
امام شعبی نے کہا اے عبادی تمہارا کام کیا ہے ؟
اس نے کہا میرا کام چیزیں بناناہے
تو امام شعبی نے کہا میرے پاس ٹوٹا ہوا برتن ہے کیا تم اسکو بناوگے ؟
تو اس نے کہا کہ : اگر آپ مجھے ریت کا ایک دھاگہ میرے لیے بناو تو میں آپ کے لیے یہ کام کرونگا
تو امام شعبی ہنس پڑے اور ٹیگ لگا لیا
اور پھرکہا کہ یہ ہمیں ۔۔۔۔اصحاب الحدیث۔۔۔۔ سے زیادہ پسند ہے

رجال کا تعارف!
رجال کا تعارف سے پہلے ایک اہم نکتہ بیان کر دوں کے ۳۰۰ھ کے بعد کے راویان کے لیے صریح ثقہ وغیرہ کے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے انکی توثیق کے لیے انکا عام معروف و مشہور ہونا اور دیندار ہونا ہی توثیق ہوتی ہے
جبکہ ۳۰۰ سے پہلے والے راویان کے لیے توثیق صریح چاہیے ہوتی ہے حفظ کے لیے
یہ اصول متفقہ علیہ بشمول وہابیہ

۱۔ سند کا پہلا راوی : علی بن عبدالرحمن بن ابی عقیل یہ امام ابن عساکر کے شیخ تھے

امام ذھبی انکے بارے لکھتے ہیں : یہ اچھی سیرت اور دین والے تھے یہ بہت عصہ تک مصر میں رہے یہ قاضی تھے
امام سمعانی کہتے ہیں ابن عرابی نے ان پر المعجم قرات کی ہے
امام زھبی کہتے ہیں ان سے ابن عساکر اور انکے بیٹے نے روایت کیا ہے اور جماعت نے بھی
امام ابن عساکر کہتے ہیں یہ دشمق کے علماء میں سے تھے اور روزے اور کثرت عبادت کرتے

337 – علي بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن علي بن عياض ابن أبي عقيل، أبو طالب الصوري، ثم الدمشقي. [المتوفى: 537 هـ]
كان أبوه وأجداده من قضاة صور، وهو شيخ مهيب، ساكن، حسن السيرة، يرجع إلى صيانة وديانة، سكن مصر مدة، وسمع بها من: أبي الحسن الخلعي، ومحمد بن عبد الله الفارسي، ودخل بغداد وسمع بها من: أبي القاسم بن بيان.
قال ابن السمعاني: قرأت عليه ” المعجم ” لابن الأعرابي، ومولده بعد الستين بصور، وكان يلقب بالقاضي بهجة الملك، توفي في ربيع الأول.
قلت: روى عنه: أبو القاسم ابن عساكر، وابنه، وجماعة.
قال ابن عساكر: أصله من حران، وسمع أيضا من الفقيه نصر، وكان من أعيان من بدمشق، وكان ذا صلاة وصيام، وقورا، مهيبا، حكى لي عتيقه نوشتكين أنه سمعه في مرضه يقول: قرأت أربعة آلاف ختمة.
(تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام)

سند کا دوسرا راوی : علی بن الحسین الموارزینی ہیں
یہ ابن عساکر کے شیخ الشیخ بھی تھے اور ان سے ابن عساکر نے بھی سماع کیا ہے
ابن عساکر کہتے ہیں یہ شیخ ثقہ تھے

145 – علي بن الحسن بن الحسين بن علي السلمي الدمشقي، أبو الحسن ابن الموازيني. [المتوفى: 514 هـ][ص:224]
قال ابن عساكر: شيخ مستور، ثقة، حافظ للقرآن. سمع أبا علي وأبا الحسين ابني عبد الرحمن بن أبي نصر، ورشأ بن نظيف، وأبا علي الأهوازي، ومحمد بن عبد السلام بن سعدان، وأبا القاسم بن الفرات، وأبا عبد الله بن سلوان، وعبد الله بن علي بن أبي عقيل، وجماعة، وسمعت منه أجزاء يسيرة.
قلت: مولده في رجب سنة ثلاثين. روى عنه الفضل بن الحسين البانياسي، وأبو طاهر السلفي، وحفيداه أبو الحسين أحمد بن حمزة ابن الموازيني، ومحمد بن حمزة، وعبد الرزاق بن نصر النجار، وعبد الرحمن بن علي ابن الخرقي، وآخرون.
قال السلفي: كان حسن الأخلاق، مرضي الطريقة، شيوخه شيوخ أبي طاهر الحنائي
(تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام)

سند کے تیسرے راوی: ابو محمد عبدالرحمن بن النحاس ہیں
امام ابن ماکولا فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ تھے

وأبو محمد عبد الرحمن بن عمر، بن محمد بن سعيد بن إسحاق بن إبراهيم بن يعقوب النحاس المصري البزاز، سمع أبا سعيد بن الأعرابي وسليمان بن داود العسكري، ومحمد بن بشر العكبري وابن الرياش وجماعة من أصحاب بحر بن نصر والربيع بن سليمان ويونس بن عبد الأعلى وكان ثقة.
(الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب ، ابن ماکولا)

سند کے چوتھے راوی : احمد بن محمد بن زیاد المعروف سعید بن الاعرابی
امام ذھبی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں یہ ثبت اور ثقہ تھے

307 – أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بن درهم العنزي الإمام أبو سعيد ابن الأعرابي البصري. [المتوفى: 340 هـ]
نزيل مكة.
سمع: الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني، وسعدان بن نصر وعبد الله بن أيوب المخرمي، ومحمد بن عبد الملك الدقيقي، وأبا جعفر ابن المنادي.
وجمع وصنف وطال عمره.
روى عنه: أبو بكر ابن المقرئ، وابن منده، وعبد الله بن يوسف، وعبد الله بن محمد القطان الدمشقي، ومحمد بن أحمد بن جميع، وعبد الرحمن بن عمر ابن النحاس، ومحمد بن أحمد بن مفرج القرطبي، وعبد الوهاب بن منير، وأبو الفتح محمد بن إبراهيم الطرسوسي، وصدقة بن محمد بن الدلم الدمشقي، وخلق كثير من الحجاج.
وكان شيخ الحرم في وقته سندا وعلما وزهدا وعبادة وتسليكا. فإنه صحب الجنيد، وعمرو بن عثمان المكي، وأبا أحمد القلانسي، وأبا الحسين النوري. وجمع كتاب ” طبقات النساك “، وكتاب ” تاريخ البصرة “.
قلت: وصنف في شرف الفقر، وفي التصوف، وكان ثقة ثبتا
(تاريخ الإسلام ، الذھبی)

سند کے پانچوے راوی : عبداللہ بن محمد بن عمرو بن حبیب المعروف ابو رفعہ البصری

امام خطیب بغدادی انکے بارے کہتے ہیں کہ یہ قاضی تھے اور ثقہ تھے

عبد اللَّه بن مُحَمَّد بن عمر بن حبيب، أبو رفاعة العدوي البصري:
قدم بغداد وحدث بِها عن سعد بن شعبة بن الحجاج، والحر بن مالك العنبري، وإبراهيم بن بشار الرمادي، وعدة من البصريين. روى عنه عَبْد اللَّه بْن مُحَمَّد بْن ناجية، وحمزة بن الحسين السمسار، ومحمد بن مخلد العطار، وَأَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن إِسْمَاعِيل السوطي، وَمُحَمَّد بن عبد الملك التاريخي، وغيرهم. وكان ثقة وولي القضاء في بعض النواحي.
(تاريخ بغداد)

سند کے چھٹے راوی : عصمہ بن سلیمان الکوفی
امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے

107 – عصمة بن سليمان الخزاز كوفي سكن بغداد روى عن سفيان الثوري وزهير بن معاوية وحماد بن زيد وجرير بن حازم وعامر بن يساف وخلف بن خليفة روى عنه ابى وسألته عنه فقال ما كان به بأس
(الجرح والعدیل ابن ابی حاتم)

سند کے ساتویں راوی : عامر بن یساف شاگرد امام شعبی تھے

امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ یہ نیک تھے
1833 – عامر بن يساف من اهل اليمامة كان بعبادان روى عن يحيى ابن ابى كثير روى عنه الحسن بن الربيع ومحمد بن عيسى بن الطباع سمعت أبي يقول ذلك، نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال هو صالح.
(الجرح والعدیل ابن ابی حاتم)

امام ابی داود فرماتے ہیں یہ نیک تھے اور ان میں کوئی حرج نہیں ہے
467- سئل أَبُو دَاوُدَ عَن عامر بْن يَسَاف فَقَالَ: “لَيْسَ بِهِ بأس، رجل صَالِح”.
(سوالات ابی داود)

امام ابن حبان نے بھی انکو ثقات میں درج کیا ہے
14670 – عامر بن يساف وقد قيل أساف يروي عن يحيى بن أبي كثير روى عنه موسى بن إسماعيل
(ثقات بن حبان)

امام ابن حجر لسان میں لکھتے ہیں کہ امام الداوری نے انکو لیس بشئ یعنی قلیل الروایت قرار دیا ہے
اور امام برقی نے ابن معین سے انکی توثیق نقل کی ہے

وَقَال الدُّورِيُّ عن ابن مَعِين: ليس بشيء.
وقال البرقي عن ابن معين: ثقة.
(لسان المیزان )

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام شعبی جو حضرت عمر کے دور میں پیدا ہوئے جید محدث مجتہد تھے اور امام ابو حنیفہ کے شیخ تھے اصحاب الحدیث کی بد زبانی اور طعن سے یہ اعظیم ہستی نہ بچ سکی تو
امام اعظم پر تو ان جیسے اصحاب الحدیث سے تو ہاتھ صاف کرنا ہی تھا
جو قیاس و فقہ کو مطلق مردود قرار دیتے ہوں

لیکن بعد میں اصحاب الحدیث اس بات کو تسلیم کیے نہ رہہ سکے کہ اصول اور فقہ ہی کے تحت روایات میں ناسخ منسوخ ، شاذ اور متعرض اورراجح و روایات ہوتی ہیں
جن میں کسی روایت کو رد اور کسی کو خاص منہج کے تحت قبول کیا جاتا ہے؂

جیسا کہ امام مالک اس چیز کے قائل نہ تھے لیکن وہ اس چیز کے قائل ہوئے بلکہ انہوں نے فقہ میں کئی فتاوں میں امام اعظم کی پیروی کی ہے

اسی طرح امام شافعی جب امام محمد بن الحسن کے شاگرد بنے تو یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ مجھ پر فقہ میں سب سے زیادہ احسان امام محمد کا ہے
اور میں نے انکے جیسا کسی کو نہیں دیکھا
(یہ یاد رہے امام شافعی امام مالک، امام ابن عیینہ سمیت جید مجتہدین کے شاگرد ہونے کے باوجود فقہ میں امام محمد کو مقدم کیا )

اور جب امام شافعی نے فقہ اور اسکے اصول سیکھے اور پھر انہوں نے بھی روایات اثار اور دلائل کو قبول اور رد کرنے کے اصول مددون کیے

اور انکی شاگردی میں آکر امام احمد جو احناف پر متشدد تھے قیاس کی وجہ سے وہ بھی رجوع کرتے ہوئےاس منہج کو اپنایا

تو جب آپ ان تین آئمہ مجتہدین کے مذاہب کو پڑھیں تو آپ کو ان ائمہ کے بے شمار فتاوے اجتیہاد پر مبنی ملے گیں

پس ثابت ہوا جس چیز کو قابل طعن بنا کر یہ امام اعظم پر ایک وقت تک جرح کرتے رہے اسی چیز کو انہیں بھی اپنانا پڑا

اسی لیے امام شافعی کا یہ قول ثابت اور مشہورہے کہ :؂
فقہ میں تمام لوگ امام اعظم ابو حنیفہ کے بال بچے ہیں

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=766564570824357&id=100024124637096

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s